Zakhm e Akbar Pay Laila – Mir Hasan Mir 2017 – 1439h

Zakhm e Akbar Pay Laila Rida Daal Do

ہاۓ اکبر ہاۓ اکبر
ہاۓ اکبر ہاۓ اکبر

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور زخمِ اکبر پہ لیلیٰ رِدا ڈال دو
میرا فرزند ہے خون میں تر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

زخم سے اِس قدر خوں بہا ہے خونِ اکبر سے تر کربلا ہے
نیزۂِ ظلم کی لوریوں سے لاڈلا میرا سویا ہوا ہے
کوئی اِس کو جگا دے نہ آ کر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ رِدا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

ہاتھ میں خوں کی مہندی لگا لو بَس تصوَّر میں دولہا بنا لو
تم نے مانی ہے جو زندگی بھر منَّتیں آج ساری بڑھا لو
غربتوں کا یہ سہرا سجا کر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور زخمِ اکبر پہ لیلیٰ رِدا ڈال دو

میری بہنوں کو کب یہ پتا ہے وہ سمجھتی ہیں یہ سو رہا ہے
سرد ہے جسم ساقط ہیں نبضیں میرا کڑیل جواں مر چُکا ہے
ہاتھ سینے سے اِس کا ہٹا کر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

غم کی کالی گھٹا چھا رہی ہے مجھ کو یہ بات تڑپا رہی ہے
پردہ سیدانیوں کا لٹے گا شامِ غربت قریب آ رہی ہے
پھر میسر کہاں ہو گی چادر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

خاک میں مل گیا ہے وہ بانو جس کو مٹی بھی لگنے نہ دی ہو
کتنے نازوں سے پالا تھا اُس نے زخم جلدی سے بی بی چھُپا دو
بنتِ زہرا نہ دیکھے یہ منظر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور زخمِ اکبر پہ لیلیٰ رِدا ڈال دو

ہائے میری سکینہ کی غربت کیسے دیکھے گی بھائی کی میت
دو جنازے نہ اُٹھیں گے مجھ سے وہ تو زندان کی ہے امانت
مر نہ جائے کہیں میری دختر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

اُس کو یہ کہہ کے دینا دلاسہ تُو نے دیکھا نہ بھائی کا لاشہ
تیری جانب سے مادر نے لیکن بے کفن کو کفن دے دیا تھا
نام بیمار صغریٰ کا لے کر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور

اے ہِلالؔ ایک محشر بپا تھا خیمۂِ شاہ ماتم کدہ تھا
اشک آنکھوں سے پیہم رواں تھے آلِ احمد میں شورِ بکا تھا
جب یہ کہتے تھے سبطِ پیمبر زخمِ اکبر پہ لیلیٰ ردا ڈال دو

کہہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور زخمِ اکبر پہ لیلیٰ رِدا ڈال دو


Keh rahay thay ye ro ro ke Sarwar
Zakhm e Akbar pay Laila rida daal do

Mera farzand hai khoon mei tar
Zakhm e Akbar pay Laila rida daal do

Check out other Noha from Mir Hasan Mir:
https://www.abulhasanlakhani.com/category/noha/mir-hasan-mir/

Mir Hasan Mir’s YouTube channel:
https://www.youtube.com/MirHasanMir

Check Also

Kis Tarha Apni Tabahi Ki - Mir Hasan Mir

Kis Tarha Apni Tabahi Ki – Mir Hasan Mir 2007

Kis Tarha Apni Tabahi Ki Khabar Le Jaaye Poet: Nazeer Baaqri کِس طَرح اَپنی تَباہی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.