Noha

Kahan Kahan Se Guzarta Raha Hussain Ka Sar

Recited by Nasir Asghar Party ·

Watch onYouTube

اردو

کہاں کہاں سے گزرتا رہا حسینؑ کا سَر
سنا کی نوک چڑھایا گیا حسینؑ کا سَر

اے مسلمان کاٹتے ہو تم یہ کس کا گلا
نہیں ہے خوفِ خدا تم سبھی کو اہلِ جفا
علی کے بغض میں کاٹا گیا حسینؑ کا سر

انعام كے لیے خولی نے کر دیا وہ ستم
سرے حسین کو تھیلی میں باندھ كے اس دم
تندور میں وہ چھپانے لگا حسینؑ کا سَر

ہائے وہ شام کا بازار وہ زینبؑ کا سفر
کبھی کوفہ تو کبھی شام، پِھری ہے در در
نظر جھکا کے تڑپتا رہا حسینؑ کا سَر

لعیں کاٹ کے سر شہ کا ہنس رہا تھا کبھی
سر اس غریب پے پتھر مارتے تھے سبھی
ہر ایک زخم کو سہتا رہا حسینؑ کا سر

حسینؑ رب سے جدا ہے نہ رب ہے اُس سے جدا
خدا کے عشق میں وہ تیرا آخری سجدہ
قرآن پڑھ کے سناتا رہا حسینؑ کا سر

Spotted a mistake in this kalaam — a wrong line, reciter or spelling? Suggest a correction

Related Kalaam